MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی

غزل ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی سہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسی گلیوں میں جو بھٹک رہے ہیں اک روٹی کی خاطر توڑیں گے وہ بھوک کی ڈالی دھوپ نگر کے باسی جن کے پاس نہیں ہیں کپڑے تن کو ڈھانپنے خاطر راتیں اوڑھتے ہیں وہ کالی دھوپ […]

ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی Read More »

دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھا

غزل دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھا اک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھا اوڑھا ہوا تھا سچ کا لبادہ وجود نے لیکن شعور جھوٹ کے اندھے نگر میں تھا ہر راستے کی دھول پروں میں سمیٹ کر انجان منزلوں کا پرندہ سفر میں تھا بازار میں تھی ہنستے چراغوں

دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھا Read More »

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں

غزل میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں تو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤں مرے سوا کبھی تجھ کو لبھا سکے نہ کوئی میں تیرے واسطے وہ انتخاب ہو جاؤں تو آسمان کی وسعت میں لے کے جائے مجھے میں تجھ پہ فخر کروں آفتاب ہو جاؤں تو بوند بوند سے

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں Read More »

رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپ

غزل رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپ کردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپ جاہل عدو سے باتوں سے بدلہ نہ لے تو دوست اس سے بڑا نہیں ہے کوئی انتقام چپ بے نام خواہشوں نے بنایا اسے حلیف پاؤں میں سرنگوں تھی کہیں ناتمام چپ تنہائی ہو تو بولنا سب سے بڑا

رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپ Read More »

منور رانا: غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر ایس معشوق احمد

منور رانا: غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر ایس معشوق احمد   اردو شاعری میں جو استجابت اور مرغوبیت صنف غزل نے پائی وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہوئی۔غزل میں ہر دور میں شعراء نے مختلف موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔میر ہو یاغالب ،اقبال ہو یا حسرت ،جگر

منور رانا: غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر ایس معشوق احمد Read More »

ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیں

غزل ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیں ابھی بہار پہ دنیائے رنگ و بو تو نہیں برنگ غنچہ ہوا چاک چاک دامن دل کسی بھی چاک کو اب حاجت رفو تو نہیں دھواں دھواں ہے ہر اک سانس سوزش غم سے کہ دل میں آتش سیال ہے لہو تو نہیں یہ اور بات

ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیں Read More »

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

غزل آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم مژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں قید غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم مسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے کسی صورت غم افتاد نہیں کرتے ہم خوب پردہ ہے یہ ظاہر کا گماں ہے ان

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم Read More »

آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیا

غزل آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیا لائے گا رنگ دیکھیے عالم انتظار کیا اپنی خوشی نہ آئے ہیں اپنی خوشی نہ جائیں گے ان کے حریم ناز میں ہم کو ہے اختیار کیا قید قفس میں ہم نفس گزری ہو جس کی زندگی اس کو خزاں کی کیا خبر جانے گا

آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیا Read More »

میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے

غزل میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے اک درد کا عالم ہے دنیائے محبت ہے ہمدرد کسی کا اب دنیا میں نہیں کوئی بدلا ہوا ہر اک کا انداز طبیعت ہے روداد شہیداں ہے ایثار کا آئینہ ایثار کا آئینہ شہکار حقیقت ہے ہر غنچۂ نورستہ کہتا ہے یہ گلچیں سے پھولوں پہ

میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہے Read More »

خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائے

غزل خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائے ہائے اس شخص کو کس طرح بھلایا جائے ایک اک ذرے کو آئینہ بنایا جائے جلوۂ حسن نظر ان کو دکھایا جائے بات جب ہے کہ نہ گزرے دل نازک پہ گراں شوق سے حال شب ہجر سنایا جائے ماہ و انجم ہیں کہیں

خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائے Read More »