ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی
غزل ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی سہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسی گلیوں میں جو بھٹک رہے ہیں اک روٹی کی خاطر توڑیں گے وہ بھوک کی ڈالی دھوپ نگر کے باسی جن کے پاس نہیں ہیں کپڑے تن کو ڈھانپنے خاطر راتیں اوڑھتے ہیں وہ کالی دھوپ […]
ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسی Read More »