MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے

غزل رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے زندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھے ان دنوں عشق کی فرصت ہی نہیں ہے ورنہ اس دریچے کی اداسی تو بلاتی ہے مجھے توڑ دیتا ہوں کہ یہ بھی کہیں دھوکا ہی نہ ہو جام میں جب تری صورت نظر آتی ہے مجھے دن […]

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے Read More »

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

غزل اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف اگر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے Read More »

آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گا

غزل آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گا راکھ میں سچائی کا زندہ بدن رہ جائے گا حرف کی بارش تھمے تو دھند سے معنی اگیں لکھنے والا آپ سے گزرے گا فن رہ جائے گا خواہشوں کا مینہ ننگی آنکھ سے جب بہہ چکا چیختا چنگھاڑتا پیچھے بدن رہ جائے

آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گا Read More »

دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی

غزل دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی بارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لی نا بینا بیچتا ہے بصارت کو راہ میں گونگے نے جب سے نطق پذیرائی چھین لی ہم لوگ بھوک پیاس کی شدت نہ سہہ سکے فاقوں نے ہم سے قوت گویائی چھین لی یہ کس نے چاندنی

دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی Read More »

لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگ

غزل لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگ اپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگ دھاگے خوشی کے اپنے بدن سے لپیٹ کر زخموں کی بستیوں میں رہے آب دیدہ لوگ بحران میرے اسم کو دے کر چلے گئے جو میرے عہد میں تھے کبھی ناشنیدہ لوگ پگھلا ہوا ہے ذہن تقاضوں کی

لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگ Read More »

بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کر

غزل بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کر ڈوب جائے گا یہ گھر کچھ ہوش کر خود کشی ہی مسئلے کا حل ہے کیا بام سے واپس اتر کچھ ہوش کر دشت کی جانب چلا تو ہے مگر سخت ہے یہ رہ گزر کچھ ہوش کر اب کیا جذبات میں گر فیصلہ روئے گا

بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کر Read More »

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں

غزل میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں تو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤں مرے سوا کبھی تجھ کو لبھا سکے نہ کوئی میں تیرے واسطے وہ انتخاب ہو جاؤں تو آسمان کی وسعت میں لے کے جائے مجھے میں تجھ پہ فخر کروں آفتاب ہو جاؤں تو بوند بوند سے

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں Read More »

مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

غزل مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل یہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل کسی کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر رہا ہے نمی کا بادل قلم سے کس کے نکل رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل شکستہ کاغذ پر آنسوؤں کا بنا ہوا

مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل Read More »

اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر

غزل اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر اور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پر حال اپنا سنانا ہے اشعار کی صورت میں یہ عمر گنوانی ہے اوراق شکستہ پر تحریر پہ دھبوں کی صورت جو منقش ہے وہ آنکھوں کا پانی ہے اوراق شکستہ پر رکنا بھی اگر چاہوں مجھ سے نہ

اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر Read More »

مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموش

غزل مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموش چپکے سے یوں حیات مری چل بسی خموش قصے وصال کے تو کتابوں میں رہ گئے پتوں پہ ہجر کی تھی کہانی وہی خموش سہمے ہوئے شجر کی بھی سجدہ کشائی تھی سجدہ کناں کو دیکھ کے مٹی ہوئی خموش ہاں ہاں ارے وہی وہی ہے

مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموش Read More »