MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

غزل حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا بھٹک رہے ہیں ابھی زیست کے سرابوں میں مسافروں کو شعور سفر نہیں آیا تمام رات ستارہ شناس روتے رہے نظر گنوا دی ستارہ نظر نہیں آیا ہزار منتیں کیں واسطے خدا کے دیے یہ راہ راست پہ […]

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا Read More »

سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں

غزل سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں میں ساحل بن کے پیاسا مر رہا ہوں اگرچہ دل میں صحرائے تپش ہے مگر میں ڈوبنے سے ڈر رہا ہوں میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں وہی لائے مجھے دار و رسن پر میں جن لوگوں کا پیغمبر

سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں Read More »

مشقت کا خزانہ مانگتا ہے

غزل مشقت کا خزانہ مانگتا ہے مری محنت زمانہ مانگتا ہے ہر اک لمحہ دل آوارہ فطرت مسافت کا خزانہ مانگتا ہے مقدر سے جسے مانگا تھا میں نے اسے مجھ سے زمانہ مانگتا ہے عجب پاگل ہے میرے من کا پنچھی قفس میں آشیانہ مانگتا ہے ہمیں ہر آن آمادۂ ہجرت ہمارا آب و

مشقت کا خزانہ مانگتا ہے Read More »

رت نہ بدلے تو بھی افسردہ شجر لگتا ہے

غزل رت نہ بدلے تو بھی افسردہ شجر لگتا ہے اور موسم کے تغیر سے بھی ڈر لگتا ہے درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے ایک ساحل ہی تھا گرداب شناسا پہلے اب تو ہر دل کے سفینے میں بھنور لگتا ہے بزم شاہی

رت نہ بدلے تو بھی افسردہ شجر لگتا ہے Read More »

بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریں

غزل بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریں بگڑے ہوئے ہیں شہر کے حالات کیا کریں آتی نہیں گرفت میں سانسوں کی ڈوریاں ہیں گردش مدام میں دن رات کیا کریں لفظوں کی ایک فوج ہے اپنی کمان میں منہ میں نہیں زباں تو مقالات کیا کریں ٹوٹا تعلقات کا ہر ایک سلسلہ ٹھنڈے

بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریں Read More »

کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا

غزل کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا لفظ تو لفظ ہیں کاغذ سے بھی خوشبو پھوٹے صفحۂ وقت پہ وہ پھول کھلائے رکھنا چاند کیا چیز ہے سورج بھی ابھر آئے گا ظلمت شب میں لہو دل کا جلائے رکھنا حرمت حرف پہ الزام نہ آنے

کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا Read More »

کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے

غزل کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے کوئی تتلی کماں داروں کے ڈر سے فضا میں پنکھ پھیلاتی نہیں ہے ہر اک صورت ہمیں بھاتی نہیں ہے کوئی صورت ہمیں بھاتی نہیں ہے جس آزادی

کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے Read More »