MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے

غزل کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے وہ دریا کیا دریا جو ساگر کو پانی دے شعر سنا کوئی ایسا جس سے لگے بدن میں آگ نیند اڑ جائے جس سے ایسی کوئی کہانی دے سوکھ رہے ہیں باغ بغیچے نہریں ریت ہوئیں اے موسم کے مالک اک موسم بارانی دے خود […]

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے Read More »

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا

غزل جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا یعنی پھر گڑیوں کا کھیل تماشا ہوگا محل تو ہولی دیوالی کے لئے بنے ہیں آگ کا رمق تو لا وارث کا خیمہ ہوگا کھاری پانی کی جھیلیں سب بچ جائیں گی لقمہ سیاہ سمندر کا بس دریا ہوگا میری تیری آنکھ کی قسمت کنکر مٹی ان

جیسا حضور کہیں گے بالکل ویسا ہوگا Read More »

پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ

غزل پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ وہ تو ساتھ نہیں تھا لیکن ساتھ تھے اس کے بھاگ سوچ رہا ہوں کس کے وش سے ہوگی کم تکلیف چاروں اور کھڑے ہیں میرے رنگ برنگے ناگ دھیرے دھیرے من اگنی ٹھنڈی نہ کہیں ہو جائے چھیڑ کبھی دل کی بینا

پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ Read More »

اے کہکشاں‌ نواز مقدر اجال دے

غزل اے کہکشاں‌ نواز مقدر اجال دے میری طرف بھی ایک ستارہ اچھال دے ہم پورے آفتاب کے قابل نہیں اگر تھوڑی سی پیلی دھوپ ہی آنکھوں میں ڈال دے ہاں کہتے کہتے گنگ نہ ہو جائے دل کہیں یا رب مری زبان کو تاب۔ سوال دے روگی ہوا ہے دھوپ کو ترسا ہوا بدن

اے کہکشاں‌ نواز مقدر اجال دے Read More »

شور دریا ہے کہانی میری

غزل شور دریا ہے کہانی میری پانی اس کا ہے روانی میری کچھ زیادہ ہی بھلی لگتی ہے مجھ کو تصویر پرانی میری جب بھی ابھرا ترا مہتاب خیال کھل اٹھی رات کی رانی میری بڑھ کے سینے سے لگا لیتا ہوں جیسے ہر غم ہو نشانی میری مہرباں مجھ پہ ہے اک شاخ گلاب

شور دریا ہے کہانی میری Read More »

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے

غزل مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے میں وہ زندہ ہوں میری تحریر رہنے کے لیے ہے ستم گر نے جو پہنائی مرے دست طلب میں یہ مت سمجھو کہ وہ زنجیر رہنے کے لیے ہے مرا آئینۂ تصنیف دیتا ہے گواہی مرا ہر نقطۂ تفسیر رہنے کے لیے ہے رہے گا

مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہے Read More »

پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے

غزل پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے پکارتی ہے انہیں منزل طلب کب سے یہ اور بات مکینوں کو کچھ خبر نہ ہوئی لگا رہے تھے محافظ مگر نقب کب سے کوئی بھی حربۂ تشہیر کارگر نہ ہوا تماشبیں ہی رہی شہرت ادب کب سے اکھڑ گئی ہیں طنابیں ستم کے

پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے Read More »

تشنگئ لب پہ ہم عکس آب لکھیں گے

غزل تشنگئ لب پہ ہم عکس آب لکھیں گے جن کا گھر نہیں کوئی گھر کے خواب لکھیں گے تم کو کیا خبر اس کی زندگی پہ کیا بیتی زندگی کے زخموں پر ہم کتاب لکھیں گے جس ہوا نے کاٹی ہیں خامشی کی زنجیریں اس ہوا کے لہجے کو انقلاب لکھیں گے جھوٹ کی

تشنگئ لب پہ ہم عکس آب لکھیں گے Read More »

جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کا

غزل جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کا وہ شخص تو ہے نمائندہ کج کلاہوں کا جسے بھی چاہا صلیب ستم پہ کھینچ دیا فقیہ شہر تو قائل نہیں گواہوں کا ہم اہل دل ہیں صداقت ہمارا شیوہ ہے ہمیں ڈرا نہ سکے گا جلال شاہوں کا ہر ایک قدر کو رسوائیاں ملیں

جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کا Read More »

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی

غزل قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی مقتل میں خون گرم کی ہر دھار بول اٹھی پوچھا سبک سروں کا نمائندہ کون ہے سن کر فقیہ شہر کی دستار بول اٹھی اہل ستم کے خوف سے جو چپ تھی وہ زباں جب بولنے پہ آئی سر دار بول اٹھی میری تباہیوں کی ہے اس

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی Read More »