کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے
غزل کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے وہ دریا کیا دریا جو ساگر کو پانی دے شعر سنا کوئی ایسا جس سے لگے بدن میں آگ نیند اڑ جائے جس سے ایسی کوئی کہانی دے سوکھ رہے ہیں باغ بغیچے نہریں ریت ہوئیں اے موسم کے مالک اک موسم بارانی دے خود […]
کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے Read More »