MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پتھروں کو خیال پھولوں کا

Patharoon ko KHyaal Phopoloon Ka غزل پتھروں کو خیال پھولوں کا یہ بھی دیکھا کمال پھولوں کا ایک بل بل شکار کرنے کو لوگ لائے ہیں جال پھولوں کا اب چمن کی خدا ہی خیر کرے اُس نے پوچھا ہے حال پھولوں کا جب سے وہ شہر میں پدھارے ہیں پڑتا جاتا ہے کال پھُولوں […]

پتھروں کو خیال پھولوں کا Read More »

پرائی آگ میں دن رات جلنے والے لوگ

Parai Aag main Din Raat jalnay walay loog غزل پرائی آگ میں دن رات جلنے والے لوگ کہاں گئے وہ مرے غم میں ڈھلنے والے لوگ دئے بجھے تو مرے خواب ہوگئے روشن نظر میں آگئے دل میں مچلنے والے لوگ اُدھار پاؤں پہ چل کر وہ پاگئے منزل نشاں بھی پا نہ سکے تیز

پرائی آگ میں دن رات جلنے والے لوگ Read More »

ناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے

Naaz us kay Uthata Hoon Rulatta bhi Mujhy Hay غزل ناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے زُلفوں میں سُلاتا بھی، جگاتا بھی مُجھے ہے آتا ہے بہُت اُس پہ مُجھے غُصّہ بھی لیکِن پیار اُس پہ کبھی ٹُوٹ کے آتا بھی مُجھے ہے در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا

ناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے Read More »

وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں

Wo Shoor hay kay yahan kuch Sunaee detta Nahi غزل وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں تلاش جِس کی ہے وه کیوں دِکھائی دیتا نہیں سُلگ رہا ہوں میں برسات کی بہاروں میں یِه میرا ظرف کہ پِھر بھی دُہائی دیتا نہیں نجانے کتنی مشقّت سے پالتی ہے یتیم ہے دُکھ کی

وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں Read More »

شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر

Shikasta Dil Tahi Daman ba chashm e tar gaya aakhir غزل شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر صنم مِل کر ھمیں پِھر آج تنہا کر گیا آخر غریبِ شہر تھا خاموش رہنے کی سزا پائی وفا کرنے پہ بھی اِلزام اُس کے سر گیا آخر بڑھا کر ھاتھ اُلفت کا سدا کی بے

شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر Read More »

پھر اس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں

Phir Iss kay baad tu Tanhaioo Kay beech main Hain غزل پھر اس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں کہ غم کی ٹُوٹتی انگڑائِیوں کے بِیچ میں ہیں غرور ایسا بھی کیا تُجھ کو شادمانی کا کِسی کی چِیخیں جو شہنائِیوں کے بِیچ میں ہیں ہمیں تو خوف سا لاحق ھے ٹُوٹ جانے

پھر اس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں Read More »

گُلوں کی پالکی میں ہے، بہاروں کی وہ بیٹی ہے

Guloon ki Palki main Hay baharoon ki wo beti hay غزل گُلوں کی پالکی میں ہے، بہاروں کی وہ بیٹی ہے چہیتی چاند کی روشن سِتاروں کی وہ بیٹی ہے ہماری عِزّتیں سانجھی ہیں، بولی کوئی بھی بولیں کِسی بھی ایک کی عِفّت، سو چاروں کی وُہ بیٹی ہے وُہ چلتی ہے تو راہوں میں

گُلوں کی پالکی میں ہے، بہاروں کی وہ بیٹی ہے Read More »

کب ہم نے کہا تُم سے محبّت ہے، نہِیں تو

Kab Ham nay khaaha Tum say Mohabat Hay Nahi tu غزل کب ہم نے کہا تُم سے محبّت ہے، نہِیں تو دِل ہِجر سے آمادۂِ وحشت ہے، نہِیں تو باتیں تو بہُت کرتے ہیں ہم کُود اُچھل کر اِس عہد میں مزدُور کی عِزّت ہے، نہِیں تو مزدُوری بھی لاؤں تو اِسی کو ہی تھماؤں

کب ہم نے کہا تُم سے محبّت ہے، نہِیں تو Read More »

غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے

Gham ki kis shakl main Tashkeel Hoi jaati Hay غزل غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے آدمیت کی بھی تذلِیل ہُوئی جاتی ہے ہر قدم زِیست چھنکتی ہے چھناکا بن کر جِس طرح کانچ میں تبدِیل ہُوئی جاتی ہے اُس کے حِصّے کی زمِینیں بھی مِرے ہاتھ رہِیں مُستقِل طور پہ تحصِیل

غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے Read More »

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں

Kuch Nahi Paya hay Ham nay is bharay sansaar main غزل کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں پُھول سے دامن ہے خالی گرچہ ہیں گُلزار میں پِھر محبّت اِس طرح بھی اِمتحاں لیتی رہی جیب خالی لے کے پِھرتے تھے اِسے بازار میں ہم نے ہر ہر بل کے بدلے خُوں

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں Read More »