MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس طرح با خدا نہیں ہوتا

Iss Tarah Baalhuda Nahi Hoota غزل اس طرح با خدا نہیں ہوتا عشق میں تجربہ نہیں ہوتا چلنا پڑتا ہے پا بجولاں ہی دوسرا راستہ نہیں ہوتا کون کہتا ہے یاں جنوں کو برا خاک اڑانا برا نہیں ہوتا گھسنی پڑتی ہے خاک پر یہ جبیں ایسے تو معجزہ نہیں ہوتا دار تک سر اگر […]

اس طرح با خدا نہیں ہوتا Read More »

دل وہ درویش ہے جب وجد میں ہُو بولے گا

Dil wo Durwesh Hay jab wajd main hoo Boolay Ga غزل دل وہ درویش ہے جب وجد میں ہُو بولے گا آسماں ٹوٹ پڑے گا تو نمو بولے گا پوچھنے حال مرا جب وہ کبھی آئیں گے لب تو خاموش رہیں گے پہ رفو بولے گا پھر کریں گے ترے مجذوب وہ رقصِ وحشت ٹوٹ

دل وہ درویش ہے جب وجد میں ہُو بولے گا Read More »

تیرگی اک گماں خیالوں کا

Teergi ik gumaa Khyaaloo ka غزل تیرگی اک گماں خیالوں کا روشنی ہے یقیں اُجالوں کا یار اب تو کوئی بھروسہ نہیں دشمنوں، گودیوں کے پالوں کا کون بیٹھا ہے یہ پسِ دیوار خون کرتا ہے جو سوالوں کا ان سے مفلس کا پیٹ کیسے بھرے کیا کرے گا وہ ان مقالوں کا یار تم

تیرگی اک گماں خیالوں کا Read More »

اُس گلی میں دوبارا گیا

Uss Gali Main Doobara Gaya غزل اُس گلی میں دوبارا گیا عشق پاگل تھا مارا گیا اُس نے دیکھا جو زخمِ جگر پیٹ کے سر، شرارا گی ا جب ہوا درد حد سے سوا اِک مسیحا اتارا گیا زلفِ محبوب پاؤں پڑی ایک درویش مارا گیا پھر چلی ہے ہوائے ستم پھر سے مقتل سنوارا

اُس گلی میں دوبارا گیا Read More »

آج اشکوں سے ہم وضو کریں گے

Aaj Ashkoon say ham wuzoo karain Gay غزل آج اشکوں سے ہم وضو کریں گے تیری آنکھوں پہ گفتگو کریں گے یہ خطا ہے تو دو بہ دو کریں گے آئینہ اس کے رو بہ رو کریں گے گھر پہ مہمان کر کے آندھی کو پھر چراغوں کو رو بہ رو کریں گے اتنے تیکھے

آج اشکوں سے ہم وضو کریں گے Read More »

ریت پھانکی گئی اور دھول اڑائی گئی ہے

Reet Phaanki Gaee aur dhool Urraai gaee Hay غزل ریت پھانکی گئی اور دھول اڑائی گئی ہے دشت میں دور تلک آبلہ پائی گئی ہے سلسلے کن فیکوں کے ہو گئے سارے تمام لاش میری کسی صحرا سے اٹھائی گئی ہے تیری آنکھوں کا یہ پھیلا ہوا کاجل توبہ روح تک چشمِ نمیدہ کی رِسائی

ریت پھانکی گئی اور دھول اڑائی گئی ہے Read More »

خالق و مخلوق کے جو درمیاں ہے نیلی چادر

Khaliq o Makhlooq kay jo Darmiaan hay neeli chadar نعت خالق و مخلوق کے جو درمیاں ہے نیلی چادربن گئی ہے یہ حجابِ کبریا زہراؑ کی چادر حشر میں مجھ کو ملا ہے چادرِ اطہر کا سایہتربتِ زہراؑ پہ میں نے خواب میں رکھی تھی چادر جب بھی آئیں آپؑ دربارِ رسالتؐ میں کبھی توخود

خالق و مخلوق کے جو درمیاں ہے نیلی چادر Read More »

آسماں سر سے یا پیروں سے زمیں جائے گی

Aasmaan sar say ya peerooo Say zameen Jayee Gi غزل آسماں سر سے یا پیروں سے زمیں جائے گیخودسری میری مجھے لے کے کہیں جائے گی ہم جو لہراتے ہوئے سرخ پھریرا نکلےگونج اس کی سرِ دربارِ لعیں جائے گی پا بہ زنجیر ہیں کچھ خون اگلتے ہوئے لوگچومنے آج صلیب ان کی جبیں جائے

آسماں سر سے یا پیروں سے زمیں جائے گی Read More »