MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ ۔ کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ ۔ کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس پیش و پس سے بے

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ Read More »