MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا

میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا شاید ابھی تلک مرا پندار مجھ میں تھا ۔ وہ کج ادا سہی مری پہچان بھی تھا وہ اپنے نشے میں مست جو فن کار مجھ میں تھا ۔ میں خود کو بھولتا بھی تو کس طرح بھولتا اک شخص تھا کہ آئنہ بردار مجھ

میں سو رہا تھا اور کوئی بیدار مجھ میں تھا Read More »

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا ۔ تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا ۔ اور بڑھ جائے گی ویرانئ دل جان جہاں میری خلوت گہ خاموش کو

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا Read More »

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم منسوب ہو سکے نہ تری انجمن سے ہم ۔ بیزار آ نہ جائیں غم جان و تن سے ہم اپنے وطن میں رہ کے بھی ہیں بے وطن سے ہم ۔ یوں بے رخی سے پیش نہ آ اہل دل کے ساتھ اٹھ کر چلے نہ

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم Read More »

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے ۔ یہ شہر سجدہ گزاراں دیار کم نظراں یتیم خانۂ ادراک کے سوا کیا ہے ۔ تمام گنبد و مینار و منبر و محراب فقیہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے ۔ کھلے سروں کا مقدر بہ

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے Read More »

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا ۔ شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا ۔ روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا ۔ سنگ

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا Read More »

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی آنکھیں کھلیں تو صبح کے پردے میں رات تھی ۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی ۔ کس درجہ ہولناک ہے یارو شعور ذات کتنی حسین پہلے یہی کائنات تھی ۔ تیری جفا تو

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی Read More »

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے ۔ جس کی مجھے تلاش تھی وہ تو مجھی میں تھا کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ سے ۔ دنیا نے تجھ کو میرا مخاطب سمجھ لیا محو سخن تھا میں تو سدا اپنے آپ

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے Read More »

میں عمر کے رستے میں چپ چاپ بکھر جاتا

میں عمر کے رستے میں چپ چاپ بکھر جاتا اک دن بھی اگر اپنی تنہائی سے ڈر جاتا ۔ میں ترک تعلق پر زندہ ہوں سو مجرم ہوں کاش اس کے لیے جیتا اپنے لیے مر جاتا ۔ اس رات کوئی خوشبو قربت میں نہیں جاگی میں ورنہ سنور جاتا اور وہ بھی نکھر جاتا

میں عمر کے رستے میں چپ چاپ بکھر جاتا Read More »

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں ۔ ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں ۔ آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے جس نے بے

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں Read More »

یں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

یں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا ۔ روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا ۔ ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا

یں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا Read More »