MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ن م راشد ایک ناقابلِ فراموش شاعر

مرنے سے پہلے آپ نے کیا وصیت کی؟ پیدائش: یکم اگست 1910وفات:9اکتوبر 1975 اردو کے معتبر شاعر۔ اصل نام نذر محمد راشد 1910ء میں ضلع گوجرانوالا کے قصبے وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے بہت متاثر رہے اور

ن م راشد ایک ناقابلِ فراموش شاعر Read More »

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میںخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کیلیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں رکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتاربت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خدا میں یارو

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں Read More »

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گاجوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمنجاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصیبندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا پہنچیں گے

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا Read More »

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹمعدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میںآتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گرآئینہ

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست Read More »

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیںکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرابرحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں کل لڑ گئیں کوچے

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں Read More »

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوابلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیرمرے لہو کو تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یاروکوئی سبو کوئی مرہم رکھو ہوا سو ہوا کہے ہے سن کے مری سرگزشت

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا Read More »

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میںیہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارااس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں برسات کا تو موسم کب کا نکل

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں Read More »

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہکافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارےتجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی Read More »

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کاگزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دلآنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے Read More »

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جاسراپا موم ہو یا سنگ ہو جا تجھے جیوں غنچہ گر ہے درد کی بولہو کا گھونٹ پی دل تنگ ہو جا کہا کس طرح دل نے تجھ کوں اے غمکہ دل کی آرسی پر زنگ ہو جا یہی آہوں کے تاروں میں صدا ہےکہ بار غم سیں

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا Read More »