یار کو بے حجاب دیکھا ہوں
یار کو بے حجاب دیکھا ہوںمیں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں یہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکیرات کوں آفتاب دیکھا ہوں نسخۂ حسن میں ترے قد کوںمصرع انتخاب دیکھا ہوں کس ستی اب امید لطف رکھوںتجھ نگہ سیں عتاب دیکھا ہوں اب ہوا سب سیں فارغ التحصیلبے خودی کی کتاب دیکھا ہوں لشکر عشق
یار کو بے حجاب دیکھا ہوں Read More »