MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یار کو بے حجاب دیکھا ہوں

یار کو بے حجاب دیکھا ہوںمیں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں یہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکیرات کوں آفتاب دیکھا ہوں نسخۂ حسن میں ترے قد کوںمصرع انتخاب دیکھا ہوں کس ستی اب امید لطف رکھوںتجھ نگہ سیں عتاب دیکھا ہوں اب ہوا سب سیں فارغ التحصیلبے خودی کی کتاب دیکھا ہوں لشکر عشق

یار کو بے حجاب دیکھا ہوں Read More »

اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے

اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتےپہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتے عبث ان شہریوں میں وقت اپنا ہم کئے ضائعکسی مجنوں کی صحبت بیٹھ دیوانے ہوئے ہوتے نہ رکھتا میں یہاں گر الفت لیلیٰ نگاہوں کوںتو مجنوں کی طرح عالم میں افسانے ہوئے ہوتے اگر ہم آشنا ہوتے تری بیگانہ

اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے Read More »

صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم

صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنمکہ اصل ہستی نابود ہے عدم کا عدم اسی جہان میں گویا مجھے بہشت ملیاگر رکھو گے مرے پر یہی کرم کا کرم ابھی تو تم نے کئے تھے ہماری جاں بخشیپھر ایک دم میں وہی نیمچا علم کا علم وو گل بدن کا عجب ہے مزاج رنگا

صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم Read More »

کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو

کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہوکبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہو کبھی تم سرد کرتے ہو دلوں کی آگ گرمی سیںکبھی تم سرد مہری سیں جھٹک کر باؤ کرتے ہو کبھی تم صاف کرتے ہو مرے دل کی کدورت کوںکبھی تم بے سبب تیوری چڑھا کر تاؤ کرتے

کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو Read More »

فدا کر جان اگر جانی یہی ہے

فدا کر جان اگر جانی یہی ہےارے دل وقت بے جانی یہی ہے یہی قبر زلیخا سیں ہے آوازاگر ہے یوسف ثانی یہی ہے نہیں بجھتی ہے پیاس آنسو سیں لیکنکریں کیا اب تو یاں پانی یہی ہے کسی عاشق کے مرنے کا نہیں ترسمگر یاں کی مسلمانی یہی ہے برہ کا جان کندن ہے

فدا کر جان اگر جانی یہی ہے Read More »

ہر طرف یار کا تماشا ہے

ہر طرف یار کا تماشا ہےاس کے دیدار کا تماشا ہے عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرطجیت اور ہار کا تماشا ہے خلوت انتظار میں اس کیدر و دیوار کا تماشا ہے سینۂ داغ داغ میں میرےصحن گل زار کا تماشا ہے ہے شکار کمند عشق سراجؔاس گلے ہار کا تماشا ہے سراج اورنگ

ہر طرف یار کا تماشا ہے Read More »

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہینہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگینہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی Read More »

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گےاور ہوں گے جو ہلاک شب ہجراں ہوں گے صدمۂ زیست کے شکوے نہ کر اے جان رئیسؔبخدا یہ نہ ترے درد کا درماں ہوں گے میری وحشت میں ابھی اور ترقی ہوگیتیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے آزمائے گا بہرحال ہمیں جبر حیاتہم ابھی

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے Read More »

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تم

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تمناموس قافلہ پہ فدا ہم ہوئے کہ تم کیوں دجلہ و فرات کے دعوے کہ نہر پرناموس قافلہ پہ فدا ہم ہوئے کہ تم مانا کہ سب اجل کے مقابل تھے سر بکفلیکن شکار تیر قضا ہم ہوئے کہ تم تم بھی فریب خوردہ سہی پر بصد

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تم Read More »

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

اپنے کو تلاش کر رہا ہوںاپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں تم لوگ ہو آندھیوں کی زد میںمیں قحط ہوا سے مر رہا ہوں خود اپنے ہی قلب خونچکاں میںخنجر کی طرح اتر رہا ہوں اے شہر خیال کے مسافرکیا میں ترا ہم سفر رہا ہوں دیوار پہ دائرے ہیں کیسےیہ کون ہے کس

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں Read More »