MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں

آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں یک قطرہ خوں بغل میں ہے دل مری سو اس کو وہ آہوئے رمیدہ مل جائے تیرہ شب گرکتا بنوں شکاری اس کو بھنبھوڑ ڈالوں خیاط نے قضا کے جامہ سیا جو میراآیا نہ جی میں اتنا کیا اس

آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں Read More »

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کرمل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کرہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر یہ بری خو ہے دلا تجھ میں خدا کی سوگنددیکھ اس بت کو تو حیران نہ رہ جایا

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر Read More »

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلاشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلا مہر و مہ اس کی پھبن دیکھ کے حیران رہےجب ورق یار کی تصویر دورو کا نکلا یہ ادا دیکھ کے کتنوں کا ہوا کام تمامنیمچہ کل جو ٹک اس عربدہ جو کا نکلا مر گئی سرو پہ جب

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا Read More »

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتااس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتا عالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہےیعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا کب وعدہ نہیں کرتیں ملنے کا تری آنکھیںکس روز نگاہوں میں پیغام نہیں ہوتا بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانےکیا شہر محبت میں

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا Read More »

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھاہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا میرے پہلو میں رات جا کر وہماہ تھا یا ہلال تھا کیا تھا چمکی بجلی سی پر نہ سمجھے ہمحسن تھا یا جمال تھا کیا تھا شب جو دل دو دو ہاتھ اچھلتا تھاوجد تھا یا وہ حال تھا کیا تھا جس

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا Read More »

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلاشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلا مہر و مہ اس کی پھبن دیکھ کے حیران رہےجب ورق یار کی تصویر دورو کا نکلا یہ ادا دیکھ کے کتنوں کا ہوا کام تمامنیمچہ کل جو ٹک اس عربدہ جو کا نکلا مر گئی سرو پہ جب

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا Read More »

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہےمنہ کھول دو نقاب کیا ہے سینے میں ٹھہرتا ہی نہیں دلیارب اسے اضطراب کیا ہے کل تیغ نکال مجھ سے بولاتو دیکھ تو اس کی آب کیا ہے معلوم نہیں کہ اپنا دیواںہے مرثیہ یا کتاب کیا ہے جو مر گئے مارے لطف ہی کےپھر ان پہ میاں

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے Read More »