آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں یک قطرہ خوں بغل میں ہے دل مری سو اس کو وہ آہوئے رمیدہ مل جائے تیرہ شب گرکتا بنوں شکاری اس کو بھنبھوڑ ڈالوں خیاط نے قضا کے جامہ سیا جو میراآیا نہ جی میں اتنا کیا اس
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں Read More »