MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیںاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہمقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے Read More »

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی – Aj bharki rag o wehshat tere deewano ki

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کیقسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صداٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی آج کیا سوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کودھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی روح مجنوں ابھی بیتاب ہے صحراؤں میںخاک بے وجہ نہیں اڑتی بیابانوں کی اس نے

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی – Aj bharki rag o wehshat tere deewano ki Read More »

عشق کو تقلید سے آزاد کر – Ishq ko taqleed se azad kar

عشق کو تقلید سے آزاد کردل سے گریہ آنکھ سے فریاد کر باز آ اے بندۂ حسن مجازیوں نہ اپنی زندگی برباد کر اے خیالوں کے مکیں نظروں سے دورمیری ویراں خلوتیں آباد کر نزع میں ہچکی نہیں آئی مجھےبھولنے والے خدارا یاد کر حسن کو دنیا کی آنکھوں سے نہ دیکھاپنی اک طرز نظر

عشق کو تقلید سے آزاد کر – Ishq ko taqleed se azad kar Read More »

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو – Na sio hont na khuabon main sada do humko

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کو جرم سقراط سے ہٹ کر نہ سزا دو ہم کوزہر رکھا ہے تو یہ آب بقا دو ہم کو بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیںہم اگر سوئے ہوئے ہیں تو جگا دو ہم کو ہم

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو – Na sio hont na khuabon main sada do humko Read More »

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں – Parsish ghum ka shukriya kiya tujhe agahi nahi

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیںتیرے بغیر زندگی درد ہے زندگی نہیں دیکھ کے خشک و زرد پھول دل ہے کچھ اس طرح ملولجیسے مری خزاں کے بعد دور بہار ہی نہیں دور تھا اک گزر چکا نشہ تھا اک اتر چکااب وہ مقام ہے جہاں شکوۂ بے رخی نہیں عشرت خلد کے

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں – Parsish ghum ka shukriya kiya tujhe agahi nahi Read More »

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا – Toba ki nazishon pe sitam dhake pee gaya

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا”پی”! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الممیں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیںگتھی کو ضبط شوق کی سلجھا کے پی گیا مے خانۂ

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا – Toba ki nazishon pe sitam dhake pee gaya Read More »

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے – Ye tou nahi ky tumse muhabbat nahi mujhe

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھےاتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھے میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظروہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے آزادئ گناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھآزادئ خیال کی جرأت نہیں مجھے دوبھر ہے گرچہ جور عزیزاں سے زندگیلیکن خدا گواہ شکایت نہیں

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے – Ye tou nahi ky tumse muhabbat nahi mujhe Read More »

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے – Youn na mil mujhse khafa ho jese

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےساتھ چل موج صبا ہو جیسے لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیںتو مجھے بھول گیا ہو جیسے عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھایوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھمجھ پہ احسان کیا ہو جیسے ایسے انجان

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے – Youn na mil mujhse khafa ho jese Read More »

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے – Ranai konain se bezar hamein thy

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوستدنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشرگویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہاراراتوں کو ترے واسطے بیدار

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے – Ranai konain se bezar hamein thy Read More »

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گامجھ سا تو کوئی بندۂ فرماں نہ ملے گا ہوں منتظر لطف کھڑا کب سے ادھر دیکھکیا مجھ کو دل اے طرۂ جاناں نہ ملے گا کہنے کو مسلماں ہیں سبھی کعبے میں لیکنڈھونڈوگے اگر ایک مسلماں نہ ملے گا ناصح اسے سینا ہے تو اب سی

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا Read More »