MOJ E SUKHAN

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے

غزل

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے
شعلۂ عشق کسے کہتے ہیں سودا کیا ہے

کوئی خوش ہے کوئی نا خوش کوئی شاکی تجھ سے
کون جانے کہ تری بزم کا قصہ کیا ہے

ساغر مہر و وفا دور میں تھا صبح و مسا
جانے اب مجلس احباب کا نقشہ کیا ہے

علم تقدیر پہ موقوف نہیں میرا عمل
کون جانے مری تقدیر کا لکھا کیا ہے

جس کے امروز میں باقی نہ رہے روح حیات
صاف ظاہر ہے کہ اس قوم کا فردا کیا ہے

جگمگاتے یہ ستارے یہ فلک کے خیمے
تو نے پردے تو یہ دیکھے پس پردہ کیا ہے

کارسازی پہ خدا کی ہے بھروسہ ورنہ
میں اگر جان لڑاؤں بھی تو ہوتا کیا ہے

سر ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں جو لوگ عروجؔ
ان سے پوچھو کہ محبت کا طریقہ کیا ہے

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم