MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں ہی کسی کے دھیان میں اپنے آپ میں گاتی دوپہریں

غزل

یوں ہی کسی کے دھیان میں اپنے آپ میں گاتی دوپہریں
نرم گلابی جاڑوں والی بال سکھاتی دوپہریں

سارے گھر میں شام ڈھلے تک کھیل وہ دھوپ اور چھاؤں کا
لپے پتے کچے آنگن میں لوٹ لگاتی دوپہریں

جیون ڈور کے پیچھے حیراں بھاگتی ٹولی بچوں کی
گلیوں گلیوں ننگے پاؤں دھول اڑاتی دوپہریں

سرگوشی کرتے پردے کنڈی کھٹکاتا نٹ کھٹ دن
دبے دبے قدموں سے تپتی چھت پر جاتی دوپہریں

کمرے میں حیران کھڑے آئینہ جیسے ہنستے دن
خود سے لڑ کر گوریا سی شور مچاتی دوپہریں

وہی مضافاتوں کے بھید بھرے سناٹوں والے گھر
گڑیوں کے لب سی کر ان کا بیاہ رچاتی دوپہریں

کھڑکی کے ٹوٹے شیشوں پر ایک کہانی لکھتی ہیں
منڈھے ہوئے پیلے کاغذ سے چھن کر آتی دوپہریں

نیم تلے وہ کچے دھاگے رنگتی ہوئی پرانی یاد
گھیرا ڈالے چھوٹی چھوٹی ہاتھ بٹاتی دوپہریں

پھٹی پرانی کتھری اوڑھے دھوپ سینکتے بوڑھے دن
پیشانی تک پلو کھینچے چلم بناتی دوپہریں

پانی کی تقسیم کے پیچھے جلتے کھیت سلگتے گھر
اور کھیتوں کی زرد منڈیروں پر کمھلاتی دوپہریں

پروائی سے لڑتے کتنے ورق پرانی یادوں کے
سوغاتوں کے صندوقوں کو دھوپ دکھاتی دوپہریں

دکھتی آنکھیں زخمی پوریں الجھے دھاگوں جیسے دن
بادل جیسی اوڑھنیوں پر پھول کھلاتی دوپہریں

اوڑھنیوں کے اڑتے بادل رنگوں کے بازاروں میں
چوڑی کی دوکانوں سے وہ ہمیں بلاتی دوپہریں

سنتے ہیں اب ان گلیوں میں پھول شرارے کھلتے ہیں
خون کی ہولی کھیل رہی ہیں رنگ نہاتی دوپہریں

یہ تو میرے خواب نہیں ہیں یہ تو میرا شہر نہیں
کس جانب سے آ نکلی ہیں یہ گہناتی دوپہریں

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم