MOJ E SUKHAN

بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھی

بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھی
یوں مرے ہوش اڑانے کی ضرورت کیا تھی

ہم سے کہنا تھا ڈبو دیتے سفینہ اپنا
اتنے طوفان اٹھانے کی ضرورت کیا تھی

جب سے آیا ہوں یہاں مہر بہ لب بیٹھا ہوں
مجھ کو محفل میں بلانے کی ضرورت کیا تھی

اپنے کردار و عمل پر جو بھروسہ ہوتا
آپ کے ناز اٹھانے کی ضرورت کیا تھی

یوں بھی ہو سکتے تھے آباد ترے ویرانے
ہم کو دیوانہ بنانے کی ضرورت کیا تھی

اشک خوں بعد میں سرشارؔ بہانے تھے اگر
خون عشاق بہانے کی ضرورت کیا تھی

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم