MOJ E SUKHAN

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے
میرے کمرے میں کیسی خامشی ہے

جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہے
مجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے

جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے
اسے پہچان فکر زندگی ہے

سمندر کا تموج ابر و باراں
زمیں کے دل میں پھر بھی تشنگی ہے

ہر اک لمحہ ہمارا خون تازہ
محبت جونک بن کر چوستی ہے

یہ سناٹا یہ تنہائی یہ کمرہ
خیالوں میں چڑیل اب ناچتی ہے

میں نیرؔ کیا دکھاؤں زخم دل کا
کسی کی آنکھ خود نم ہو گئی ہے

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم