MOJ E SUKHAN

تعلق کانچ کا برتن نہیں ہے

تعلق

تعلق کانچ کا برتن نہیں
ہاتھوں سے چھوٹے
اور چکنا چور ہو جائے
تعلق آہنی دیوار ہوتا ہے
تعلق آسمانوں پر چمکتا
اک ستارہ بھی نہیں
جو رات بھر چمکے
مگر جیسے ہی سورج
اپنی کرنوں کو زمیں پر
پھیلنے کا حکم دے تو
وہ کہیں روپوش ہو جائے
تعلق آسماں ہے
موسموں کا حسن کب ہے
جو سدا باقی نہیں رہتا
تعلق تو ہوا ہے
اور ضمانت ہے ہماری زندگی کی
عہد کب ہے
جو نبھاتا ہی نہیں کوئی
ہمیشہ ٹوٹ جاتا ہے
تعلق عشق ہے احساس ہے
خو شبو ہے جادو ہے
تعلق وقت کی صورت
ہمیشہ چلتا رہتا ہے
تعلق سانس کے مانند ہوتا ہے
تعلق توڑنے والو
تمہیں معلوم ہے
سچا تعلق ختم ہو سکتا ہے
لیکن مر نہیں سکتا۔۔۔

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم