MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے
خیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے

وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صبا
پھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے

ملے بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیں
یہ وسوسے بھی دل مبتلا سے باندھ لیے

ہمارے دل کا چلن بھی تو کوئی ٹھیک نہیں
کہاں کے عہد کہاں کی فضا سے باندھ لیے

وہ اب کسی بھی وسیلے سے ہم کو مل جائے
سو ہم نے اپنے ارادے دعا سے باندھ لیے

میں اک تھکا ہوا انسان اور کیا کرتا
طرح طرح کے تصور خدا سے باندھ لیے

فاضل جمیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم