MOJ E SUKHAN

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے

غزل

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے
آج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کے

کمرہ بند کیا اور سارے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے
آنکھیں ڈھیلی چھوڑیں رستے کھول دیے دریاؤں کے

دوگانہ آزار ہے صاحب ہم جیسوں کی قسمت میں
ہم محتاج رویوں کے اور ہم مجبور اناؤں کے

دیکھ لے کتنے کشٹ اٹھا کر تیرے در تک پہنچا ہوں
دیکھ لے پپڑی ہونٹوں کی اور دیکھ لے چھالے پاؤں کے

کھائیاں ہیں کھڈے روڑے ہیں کنکر پتھر ہیں لیکن
جنت کے رستے لگتے ہیں سارے رستے گاؤں کے

ان کی چاہ میں قریہ قریہ بستی بستی گھوم لیے
ان کی چاہ میں کونے کھدرے چھان لیے صحراؤں کے

ہم جو بزم غیر میں اکثر ان کی باتیں کرتے ہیں
تپتی دھوپ میں لطف لیا کرتے ہیں ٹھنڈی چھاؤں کے

توڑ کے رسم عہد وفا کو آخر چھوڑ ہی جانا تھا
پنجرے میں آ بیٹھے تھے پنچھی آزاد فضاؤں کے

ہم محراب اور منبر والوں کی آنکھوں کو چبھتے ہیں
ہم نے عقل کو رہبر مانا ہم مفرور خداؤں کے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم