MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کہہ لو

غزل

دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کہہ لو
چاہے دو حرف لکھو چاہے زبانی کہہ لو

میں نے مرنے کی دعا مانگی وہ پوری نہ ہوئی
بس اسی کو مرے جینے کی نشانی کہہ لو

صرصر وقت اڑا لے گئی روداد حیات
وہی اوراق جنہیں عہد جوانی کہہ لو

جب نہیں شاخ چمن پر تو مرا نام ہی کیا
برگ آوارہ کہو برگ خزانی کہہ لو

تم سے کہنے کی نہ تھی بات مگر کہہ بیٹھا
اب اسے میری طبیعت کی روانی کہہ لو

وہی اک قصہ زمانے کو مرا یاد رہا
وہی اک بات جسے آج پرانی کہہ لو

ہم پہ جو گزری ہے بس اس کو رقم کرتے ہیں
آپ بیتی کہو یا مرثیہ خوانی کہہ لو

خلیل الرحمٰن اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم