MOJ E SUKHAN

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں

غزل

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں
کروٹ بدل کے سو رہا ہوں

یہ جاگنا اور سونا کیا ہے
آنکھوں میں جہاں سمو رہا ہوں

دنیا سے الجھ کے سر پہ شاید
اپنی ہی بلا کو ڈھو رہا ہوں

یہ لاگ اور لگاؤ کیا ہے
اپنا وجود ہی ڈبو رہا ہوں

اب تک جو زندگی ہے گزری
کانٹے نفس میں بو رہا ہوں

ہے کچھ تو اپنی پردہ داری
نہ جاگتا ہوں نہ سو رہا ہوں

اتنا ہے کھوٹ میرے من میں
پانی میں دودھ بلو رہا ہوں

اے دل فگار بے ثبات ہستی
تیری ہی جان کو رو رہا ہوں

جتنی ہے دور موت مجھ سے
اتنا ہی قریب ہو رہا ہوں

شیرازہ یوں بکھر رہا ہے
خود میں تباہ ہو رہا ہوں

کس راستے پر جا رہی ہے دنیا
یہ دیکھ کے ہی تو رو رہا ہوں

جانے ہمیشؔ خود کو کب سے
بے وجہ لہو میں ڈبو رہا ہوں

احمد ہمیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم