MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیفیت ایسی ہے نگہ مست خواب میں

غزل

کیفیت ایسی ہے نگہ مست خواب میں
زاہد بھی دیکھ لے تو نہاوے شراب میں

کیوں کیا کہیں گے حضرت یوسف جواب میں
چوری کیا ہے دل جو زلیخا کا خواب میں

ہونٹوں کو تر تو کرتے ہو قدح شراب میں
ایسا نہ ہو کہ آگ لگے آفتاب میں

ہے جوش گریہ اب بھی وہ چشم پر آب میں
دریا کے دم کو بند کیا ہے حباب میں

لکھا ہے عاشقوں نے یہ دل کی کتاب میں
ہیں پند منع سننے محبت کے باب میں

چیں بر جبیں ہو کس کا پڑا عکس آب میں
اس طرح موج بحر جو ہے پیچ و تاب میں

بو اور مزہ وہ ہے ترے منہ کے لعاب میں
گویا گھلا ہے قند مکرر گلاب میں

شاید کہ عزم کوچۂ جاناں ہے دل کو آج
بھیجا ہے پہلے جان کو جو پا تراب میں

گردش ہے اس کی چشم کو ہستی میں یا کہیں
نرگس کا پھول تیر رہا ہے شراب میں

اپنا تو وقت یاد کرو تم نے شیخ جی
کیا کیا مزے اڑائے ہیں عہد شباب میں

سنتا ہے ہم نشیں نگہ ناز بے طرح
گھر کر گئی ہے اس دل خانہ خراب میں

چیچک کے داغ اس رخ تاباں پہ دیکھ لو
تارے کھلے نہ دیکھے ہوں گر آفتاب میں

مت غسل دیجو دست حنائی کا ہوں شہید
نہلا چکا ہے دشنہ مجھے خون ناب میں

لے چکھ تو شوخئ لب و نمکینیٔ ذقن
کیا خوب نون مرچ ہیں دل کے کباب میں

اس کی سی کچھ یہیں نہیں کہتے ہیں داد گر
سب مل کے واں بھی چیند کریں گے حساب میں

اب یاں سے کعبے خاک اڑانے چلے ہیں شیخ
بہر ثواب خاک پڑے اس ثواب میں

باتیں سنا سنا کے ڈرائیں گے اپنے ساتھ
زاہد نہ سانیو تو کسی کو عذاب میں

ملتا نہیں کچھ اور گر اے چارہ گر تجھے
لاچار کچھ تو چین پڑے اضطراب میں

زخموں پہ دل کے سودۂ الماس ہی چھڑک
حل کر کے ہو سو ہو نمک و مشک ناب میں

ضبط فغاں میں ڈر ہے مجھے عیشؔ دل کہیں
سینے سے باہر آ نہ پڑے اضطراب میں

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم