MOJ E SUKHAN
No Record Found
جس کو بھی آگ لگانے کا ہُنر آتا ہےوہی ایوانِ سیاست میں نظر آتا ہےخالی دامن ہیں یہاں پیڑ لگانے والےاور حصے میں لٹیروں کے ثمر آتا ہےیاد آجاتی ہے پردیس گئی بہنوں کیجھُنڈ چڑیوں کا جب آنگن میں اُتر آتا ہےاَنگنت سال کا جلتا ہوا بوڑھا سورججانے کیوں روز سویرے میرے گھر آتا ہے
منظر بھوپالی
جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں
کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے
محبتوں میں اِطاعت،وفا اضافی ہے
گھونگھٹ گرا کے اور کبھی گھونگھٹ اُٹھا کے میں
ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے
شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے
نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو – Na
خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے