MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے

خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے

جلا کے شمع اب اٹھ اٹھ کے دیکھنا چھوڑو
وہ ذمہ داری سے از خود پگھل بھی سکتی ہے

ہے شرط صبح کے رستے سے ہو کے شام آئے
تو رات اس کو سحر میں بدل بھی سکتی ہے

ذرا سنبھل کے جلانا عقیدتوں کے چراغ
بھڑک نہ جائیں کہ مسند یہ جل بھی سکتی ہے

ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

یہ آفتاب سے کہہ دو کہ فاصلہ رکھے
تپش سے برف کی دیوار گل بھی سکتی ہے

ترے نہ آنے کی تشریح کچھ ضروری نہیں
کہ تیرے آتے ہی دنیا بدل بھی سکتی ہے

کوئی ضروری نہیں وہ ہی دل کو شاد کرے
علیناؔ آپ طبیعت بہل بھی سکتی ہے

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم