دھوپ کی اوڑھنی کو اوڑھے ہوئے
گھر سے سورج نکل کر آیا ہے
مارچ اپریل کے مہینے میں
کیسا چولا بدل کر آیا ہے
ظلمتِ شب کی تلخ باتوں سے
صبح کے دل گذار لمحوں کے
سینوں پر مونگ دَل کر آیا ہے
سہیل غازی پوری
دھوپ کی اوڑھنی کو اوڑھے ہوئے
گھر سے سورج نکل کر آیا ہے
مارچ اپریل کے مہینے میں
کیسا چولا بدل کر آیا ہے
ظلمتِ شب کی تلخ باتوں سے
صبح کے دل گذار لمحوں کے
سینوں پر مونگ دَل کر آیا ہے
سہیل غازی پوری