MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا
مرا مدعا نہیں آئے گا ترا تذکرہ نہیں آئے گا

مری زندگی کے النگ میں کئی گھاٹیاں کئی موڑ ہیں
تری واپسی بھی ہوئی اگر تجھے راستہ نہیں آئے گا

اگر آئے دن تری راہ میں تری کھوج میں تری چاہ میں
یوں ہی قافلے جو لٹا کئے کوئی قافلہ نہیں آئے گا

اگر آئے دشت میں جھیل تو مجھے احتیاط سے پھینکنا
کہ میں برگ خشک ہوں دوستو مجھے ڈوبنا نہیں آئے گا

مری عمر بھر کی برہنگی مجھے چھوڑ دے مرے حال پر
یہ جو عکس ہے مرا ہم سفر مجھے اوڑھنا نہیں آئے گا

کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا

کوئی انتظار کا فائدہ مرے یار بیدل حیدریؔ
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا نہیں آئے گا نہیں آئے گا

بیدل حیدری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم