MOJ E SUKHAN

زندگی بھر شکست کھائی ہے

غزل

زندگی بھر شکست کھائی ہے
اب محبت سمجھ میں آئی ہے

دل کا ملنا خوشی کی بات سہی
یہ خوشی کس کو راس آئی ہے

گر ہمیں ہے جنون دیدہ وری
ان کو کیوں شوق خودنمائی ہے

ہم جدھر ہیں فقط ہے نام خدا
وہ جدھر ہیں ادھر خدائی ہے

اک ملاقات میں ہے یہ عالم
جیسے برسوں کی آشنائی ہے

بات ترک انا تک آ پہنچی
غیرت دل تری دہائی ہے

بزمؔ سمجھے تھے سرسری جس کو
وہ ملاقات رنگ لائی ہے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم