MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے
بہشت خاک میں اے رفتگاں کیا چل رہا ہے

پرانے دکھ نئے کپڑے پہن کر آ گئے ہیں
یہ اپنے شہر میں آزردگاں کیا چل رہا ہے

یہ جن کے اشک میری جان کو آئے ہوئے ہیں
میں ان سے پوچھ بیٹھا تھا میاں کیا چل رہا ہے

ہمارا بھوک نے منہ بھر دیا ہے گالیوں سے
تمہارے بد نصیبوں کے یہاں کیا چل رہا ہے

ہیں اشکوں کے نشانے پر مسلسل دکھ ہمارے
یہ چالیں ہم سے اندوہ جہاں کیا چل رہا ہے

ندامت سے میں اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہوں
یہ میرے دوستوں کے درمیاں کیا چل رہا ہے

یہاں ہر روز ہونٹوں کے گنے جاتے ہیں ٹانکے
تمہارے شہر میں شعلہ بیاں کیا چل رہا ہے

چلا کر گولیاں مجھ پر پرندوں کو بتاؤ
جہاں پنجرے نہیں بنتے وہاں کیا چل رہا ہے

تو پھر قابو کیا ہے ہجر کس جادو سے تم نے
اداسی گر نہیں افسردہ گاں کیا چل رہا ہے

ہمارے رہبروں کو جان کے لالے پڑے ہیں
تمہارے رہبروں میں گمرہاں کیا چل رہا ہے

کبیر اطہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم