MOJ E SUKHAN

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

غزل

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا
جو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا

وہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ
وہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا

ادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر
سمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا

غریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا
دل ناتواں کو نہ ٹھکرائیے گا

خبر بھی ہے کچھ بار عصیاں کی شوقؔ
ہوئی واں جو پرسش تو شرمایئے گا

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم