MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مختلف مشروب اور ترکاریاں

مختلف مشروب اور ترکاریاں
دعوتیں ہوں جسطرح سرکاریاں

یاد آتی ہیں بڑھاپے میں ہمیں
ہائے وہ سسرال کی افطاریاں

کیوں مِلے گی چیز سستی آپ کو
چل رہی ہوں ٹیکس کی جب آریاں

کھا چکی ہے طب کو دو نمبری
بڑھ رہی ہیں دن بہ دن بیماریاں

ڈھونڈتے ہیں نوکری والی بہو
دیکھ کر پسران کی بے کاریاں

اُس طرف دربار کی ہیں وسعتیں
اِس طرف جمہور کی ناداریاں

لِیک ہو جائے گی ویڈیو وصل کی
اب کہاں ہوتی ہیں پردہ داریاں

گرمیاں ہیں ،ملک میں بجلی نہیں
کھول کر سوتا ہوں بُوہے باریاں

(رحمت اللہ عامر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم