سخن ھے خود سے یہ تجھ سے کلام تھوڑی ھے
یہ بارگاہِ ادب تیرے نام تھوڑی ھے
چراغ رکھا ھے ما بینِ ہجر اور وصال
یہ روبرو ترے ماہِ تمام تھوڑی ھے
ذرا سی دیر میسر تھی جس کی همسفری
اس اجنبی سے دعا و سلام تھوڑی ھے
یہ کیا کہ صرف یہ چہرہ مٹا دیا تم نے
ہمارا خون بھی تم پر حرام تھوڑی ھے
گھروں کو لوٹ کے جانا ھے شام ڈھلتے ہی
جہاں ٹھہر نا تھا یہ وہ مقام تھوڑی ھے
جنوں میں دیکھے ہیں گل پیرہن گریباں چاک
میاں یہ عشق کوئ عام کام تھوڑی ھے
کیا ھے میر نے ہم سب پہ بے حساب کرم
وگرنہ شاعری آسان کام تھوڑی ھے
سنا گیا ھے حریمِ ادب میں میرا کلام
کرم ھے اس کا یہ میرا مقام تھوڑی ھے
پروین حیدر