MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

غزل

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا
آفت زدہ ہوں یار ادھر کا نہ ادھر کا

کس طور دل اس خنجر مژگاں کی سپر ہو
مقدور جہاں ہو نہ قضا کا نہ قدر کا

گلزار میں دنیا کے ہوں جو نخل بھچنپا
خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوف قہر کا

میں ہاتھ میں ہوں باد کے مانند پر کاہ
پابند نہ گھر کا ہوں نہ مشتاق سفر کا

اس سے جو کیا عشقؔ کا مذکور کسی نے
بولا کہ عبث ذکر ہے اس خاک بسر کا

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم