MOJ E SUKHAN

سینے سے تیر یار کا پیکاں نکل گیا

غزل

سینے سے تیر یار کا پیکاں نکل گیا
افسوس گھر میں آن کے مہماں نکل گیا

حیراں ہوں میں بتا تو ہوا جس پہ تو خفا
کیا ایسا میرے منہ سے مری جاں نکل گیا

کچھ چاشنیٔ عشق سے واقف تھا قیس سو
دیوانہ ہو کے سوئے بیاباں نکل گیا

اشکوں کے ساتھ سینے سے لے اب تو رحم کر
خوں ہو کے دل بھی دیدۂ گریاں نکل گیا

تیر نگاہ یار کا کیا ہوگا توڑ جب
سینے کے پار یار کا پیکاں نکل گیا

بخشش کو اس کی دیکھ کے سب دل سے خوف حشر
مژدہ ہو اے ندامت عصیاں نکل گیا

وہ چھوٹتا ہے قید سے ہستی کی جو کوئی
ہو بوئے گل کی طرح سے عریاں نکل گیا

اے عیشؔ جائے غور ہے شکوہ ہو اس کا کیا
انسانیت سے اپنی جو انساں نکل گیا

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم