MOJ E SUKHAN

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
ہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیا

چھوٹی تھی عمر اور فسانہ طویل تھا
آغاز ہی لکھا گیا، انجام رہ گیا

اُٹھ اُٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گروں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا

اس کاقصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ
وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا

اب کیا بتائیں کون تھا کیا تھا وہ ایک شخص
گنتی کے چار حرفوں کا جو نام رہ گیا

نِدا فاضلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم