MOJ E SUKHAN

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا – Sheher e sadmat se agay nahi jane wala

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا
میں تری ذات سے آگے نہیں جانے والا

تو بھی اوقات میں رہ مجھ سے جھگڑنے والے
میں بھی اوقات سے آگے نہیں جانے والا

ایسے لگتا ہے مری جان تعلق اپنا
اس ملاقات سے آگے نہیں جانے والا

آج کی رات ہے بس نور کی کرنوں کا جلال
دیپ اس رات سے آگے نہیں جانے والا

میرے کشکول میں ڈال اور ذرا عجز کہ میں
اتنی خیرات سے آگے نہیں جانے والا

احمد خیال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم