MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ادھورا عشق تھا سو ہم ادھورے رہ گئے ہیں

غزل

ادھورا عشق تھا سو ہم ادھورے رہ گئے ہیں
بدن رکھتے ہوئے دونوں اچھوتے رہ گئ ہیں

برائے تجربہ بچھڑے ذرا سی دیر کو ہم
پھر اس کے بعد تو گویا بچھڑ کے رہ گئے ہیں

وہ میری ڈائری لوٹا گئ ہے  حسبِ وعدہ
ورق پر ڈائری میں میری آدھے رہ گئے ہیں

نہیں ہم دے سکے حسبِ طلب دنیا کو کچھ بھی
ہمیں حیرت ہے ہم دنیا میں کیسے رہ گئے ہیں

کروں گا کس طرح میں اس کے غم کی باریابی
برے دن کھو گئے ہیں صرف اچھے رہ گئے ہیں

زمیں پر بھی نظر آتی ہیں بس قبریں ہی قبریں
فلک پر بھی ستارے ہی ستارے رہ گئے ہیں

جواں : مالِ غنیمت لے گئے سب ساتھ اپنے
مگر جو جنگ جیتے تھے وہ بوڑھے رہ گئے ہیں

ملاقاتیں ، کہانی لے گئ تصویر کر کے
سرِ کردار دونوں کے ہیولے رہ گئے ہیں

بتا دینا اسے اے مخبرو ! کچھ پھول دے کر
ہمیں لگنے لگا ہے ہم اکیلے رہ گئے ہیں

کہاں کی بات، کیسی مشورت کیسے اشارے
فقط اب دھیان میں اس کے تقاضے رہ گئے ہیں

پتہ تو چل گیا ہے اب نہیں ہے عشق ہم کو
مگر ہاں عشق کے کچھ تانے بانے رہ گئے ہیں

یہ کس گرداب میں تو نے ڈبویا تھا مجھے رات
سمندر کھو گیا ہے اور کنارے رہ گئے ہیں

محسن اسرار۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم