MOJ E SUKHAN

غم کی چھلنی سے گزاری تو سنبھالی نہ گئی

غم کی چھلنی سے گزاری تو سنبھالی نہ گئی
زندگی عیش پہ واری تو سنبھالی نہ گئی

پھول نے رنگ شگوفوں نے تبسم چھینا
تیری تصویر اتاری تو سنبھالی نہ گئی

جانے کس طور وہ کرتا ہے رعایا قابو
شاہ سے اپنی سواری تو سنبھالی نی گئی

اپنے مرکز سے جو سرکی تو سرکتی ہی گئی
زیست اک مرتبہ ہاری تو سنبھالی نہ گئی

توبہ توبہ یہ نمائش کا جنوں خوشبو میں
جب کھلی گل کی پٹاری تو سنبھالی نہ گئی

وارثوں نے ہی کیا جان اسے لاوارث
سر سے دستار اتاری تو سنبھالی نہ گئی

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم