MOJ E SUKHAN

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے

غزل

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے
مجھے میری پہلی خوشی بھیج دے

اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں
لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے

میں پیاسا ہوں خالی کنواں ہے تو کیا
صراحی لیے اک پری بھیج دے

اگر تجھ کو فرصت نہیں تو نہ آ
مگر ایک اچھا نبی بھیج دے

بہت نیک بندے ہیں اب بھی ترے
کسی پر تو یارب وحی بھیج دے

کہیں کھو نہ جائے قیامت کا دن
یہ اچھا سمے ہے ابھی بھیج دے

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم