MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو
دود ہر شمع گریباں نظر آیا مجھ کو

چاند جو ابھرا شب غم مرے دل میں ڈوبا
بھیگتی رات نے کچھ اور جلایا مجھ کو

ہائے کیا کیا مجھے بیتاب رکھا ہے اس نے
یاد کرنے پہ بھی جو یاد نہ آیا مجھ کو

اب تو سانسوں کے تموج سے بھی جی ڈرتا ہے
زندگی تو نے یہ کس گھاٹ اتارا مجھ کو

تھے مری پشت پہ اقدار کے ڈھلتے سورج
بن گیا راہنما اپنا ہی سایا مجھ کو

راہ بے سمت ہے افتاد ہے منزل اپنی
خاک صحرا ہوں اڑاتا ہے بگولا مجھ کو

پہلے دیوار اٹھائی تھی کہ خود کو دیکھوں
اب یہاں کوئی نہیں دیکھنے والا مجھ کو

لے اڑی مجھ کو مرے ذہن کی خوشبو توصیفؔ
تو نے کیا سوچ کے زنجیر کیا تھا مجھ کو

توصیف تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم