MOJ E SUKHAN

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ
اس جسم کی خوشبو ہے گلابوں سے زیادہ

اک قطرۂ شبنم کو ترستے ہیں گلستاں
یہ فصل تو ممسک ہے سرابوں سے زیادہ

پڑھنا ہے تو انسان کو پڑھنے کا ہنر سیکھ
ہر چہرے پہ لکھا ہے کتابوں سے زیادہ

پہنچا ہوں وہیں پر کہ چلا تھا میں جہاں سے
ہستی کا سفر بھی نہیں خوابوں سے زیادہ

یہ بکھری ہوئی زندگی یکجا نہیں ہوتی
کم ہونے پہ بھی ہم ہیں خرابوں سے زیادہ

فارغؔ کبھی گھٹتی ہی نہیں درد کی دولت
ہوتی ہے ہمیشہ یہ حسابوں سے زیادہ

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم