MOJ E SUKHAN

جو اب مرا ہے کسی اور کا نہ ہو جائے

جو اب مرا ہے کسی اور کا نہ ہو جائے
یہ چار دن کی خوشی بھی ہوا نہ ہو جائے

اسی لئے مجھے رکھتا ہے اپنی مثھی میں
مری نمود کہیں جا بہ جا نہ ہو جائے

پلٹ رہی ہے گزشتہ رفاقتوں کی مہک
پرانا ہوتا ہوا دکھ نیا نہ ہو جائے

تڑپتے رہنا اسے دیکھنے کی خواہش میں
یہ سوچنا بھی، کہیں سامنا نہ ہو جائے

کلی سے پھول سے باد صبا کے جھونکے سے
کسی سے تو سخن محرمانہ ہو جائے

اترتے دیکھ کے مظلوم آنکھ میں آنسو
لرز رہا ہوں قیامت بپا نہ ہو جائے

ہدف بنائے ہوئے ہے کوئی نظر مجھ کو
دعا کرو کہ نشانہ خطا نہ ہو جائے

تمام عمر جسے ٹھوکروں میں رکھا ہے
وہ سنگ راہ گزر بھی خدا نہ ہو جائے

بنام زیست کوئی گیت گنگنا ہی لوں
کہ پھر یہ ساز نفس بے صدا نہ ہو جائے

وہ اپنی جیب سے خیرات تک نہیں کرتا
کہ اس کے ہاتھوں کسی کا بھلا نہ ہو جائے

سکوت ہی نے سلامت رکھا ہوا ہے بھرم
کھلے زبان تو دشمن زمانہ ہو جائے

ہجوم ہمسفراں سے توقعات نہ باندھ
نجانے کون کدھر کو روانہ ہو جائے

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم