MOJ E SUKHAN

کوئی نہیں آتا سمجھانے

کوئی نہیں آتا سمجھانے
اب آرام سے ہیں دیوانے

طے نہ ہوئے دل کے ویرانے
تھک کر بیٹھ گئے دیوانے

مجبُوری سب کو ہوتی ہے
ملنا ہو تو لاکھ بہانے

بن نہ سکی احباب سے اپنی
وہ دانا تھے، ہم دیوانے

نئی نئی اُمیدیں آ کر
چھیڑ رہی ہیں زخم پرانے

جلوہء جاناں کی تفسیریں
ایک حقیقت، لاکھ فسانے

دنیا بھر کا درد سہا ہے
ہم نے تیرے غم کے بہانے

پھر وحشت آئی سلجھانے
ہوش و خِرد کے تانے بانے

پھر آنچل سے ہوا دی
شعلہء گل کو بادِ صبا نے

پھر وہ ڈال گئے دامن میں
درد کی دولت، غم کے خزانے

آج پھر آنکھوں میں پھرتے ہیں
عہدِ تمنا کے ویرانے

پھر تنہائی پوچھ رہی ہے
کون آئے دل کو بہلانے

سیف وہ غم کہ تشنہ خُوں ہے
ہم زندہ ہیں جس کے بہانے

سیف الدین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم