MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رستہ کوئی بچنے کا نکالا نہیں میں نے

رستہ کوئی بچنے کا نکالا نہیں میں نے
آنے دیا سیلاب کو ٹالا نہیں میں نے

اِس بار میں چپ چاپ ہوا کھیل سے باہر
اس بار تو سکہ بھی اچھالا نہیں میں نے

میں آپ ہی ٹکرایا کیا پنجرے سے سر کو
اس بار پرندہ کوئی پالا نہیں میں نے

دل مجھ سے کیے جاتا تھا ہر بات دوبارہ
نیند آئ تھی لیکن اسے ٹالا نہیں میں نے

اُس پار اتر جانے کی خواہش نے ڈبویا
جو چھید ہے کشتی میں وہ ڈالا نہیں میں نے

جو راکھ تھی اس کو تو اڑانا ہی تھا طاہر
جو رنگ تھا اس کو بھی سنبھالا نہیں میں نے

قیوم طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم