MOJ E SUKHAN

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں
اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں

تم لوگ ہو آندھیوں کی زد میں
میں قحط ہوا سے مر رہا ہوں

خود اپنے ہی قلب خونچکاں میں
خنجر کی طرح اتر رہا ہوں

اے شہر خیال کے مسافر
کیا میں ترا ہم سفر رہا ہوں

دیوار پہ دائرے ہیں کیسے
یہ کون ہے کس سے ڈر رہا ہوں

میں شبنم چشم تر سے اے صبح
کل رات بھی تر بہ تر رہا ہوں

اک شخص سے تلخ کام ہو کر
ہر شخص کو پیار کر رہا ہوں

اے دجلۂ خوں ذرا ٹھہرنا
اس راہ سے میں گزر رہا ہوں

فریاد کہ زیر سایۂ گل
میں زہر‌ خزاں سے مر رہا ہوں

رئیس امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم