MOJ E SUKHAN

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں
پاؤں صحرا کے سمندر سے ہی نم ہوتے ہیں

سر پہ پھرتے ہیں کئی بوچھ اضافی لے کر
|ہم سے لوگوں کو زمانے کے بھی غم ہوتے ہیں

اب تو لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے
تجربے عمر ریاضت سبھی کم ہوتے ہیں

تب کہیں جا کے چھلکتا ہے یہ پیمانہ ء۔ دل
کتنے دریا ہیں سمندر میں جو ضم ہوتے ہیں

ہم شکنجے میں روایات کے جینے والے
ہم پہ غیرت کے حوالے سے ستم ہوتے ہیں

کھینچ لاتی ہے سرِ شام کشش بچوں کی
گھر کی دہلیز سے جب دور قدم ہوتے ہیں

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم