MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ

غزل

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ
تم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہ

میں وفاؤں کا ہوں پیکر مرا جذب مخلصانہ
مجھے آزما لے ہمدم جو تو چاہے آزمانا

تو مجھے تباہ کر دے تو مرا نشاں مٹا دے
نہ کروں گا میں گوارا مگر اپنا سر جھکانا

جو اسے کوئی سنے گا تو بھلا یقیں کرے گا
یہ جناب شیخ ہمدم یہ در شراب خانہ

یہ عطائے عشق ہی ہے کہ بنا ہوں میں غزل خواں
نہ تھا اس کے پہلے دانشؔ مرا ذوق شاعرانہ

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم