MOJ E SUKHAN

تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے

تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے
وہ ایک شب جو تری یاد میں گزاری ہے

سنا رہا ہوں بڑی سادگی سے پیار کے گیت
مگر یہاں تو عبادت بھی کاروباری ہے

نگاہ شوق نے مجھ کو یہ راز سمجھایا
حیا بھی دل کی نزاکت پہ ضرب کاری ہے

مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

یہ کس نے چھیڑ دیا رخصت بہار کا گیت
ابھی تو رقص نسیم بہار جاری ہے

خفا نہ ہو تو دکھا دیں ہم آئنہ تم کو
ہمیں قبول کہ ساری خطا ہماری ہے

جہاں پناہ محبت جناب شبنمؔ ہیں
زبان شعر میں فرمان شوق جاری ہے

شبنم رومانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم