MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ

غزل

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ
غم با وفا تھے چلتے رہے آدمی کے ساتھ

ڈھلنے لگی جوانی جو آئی تھی چار دن
ٹھہرا بڑھاپا قبر تلک رہبری کے ساتھ

انداز زندگی کے بدل کر جیو سدا
اپنوں کی بے رخی کو سہو تم خوشی کے ساتھ

پوجا ہے میں نے روز و شب اس قدر اسے
اس کا ہی نام لکھتی رہی شاعری کے ساتھ

مجھ کو صباؔ ملی ہے مسرت بھی اس طرح
جیسے کہ اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم