MOJ E SUKHAN

تڑپ رہا تھا میں جس درد لا دوا کے لئے

غزل

تڑپ رہا تھا میں جس درد لا دوا کے لئے
وہ مل گیا ہے مگر چھین لے خدا کے لئے

میں بوند بوند ٹپکتا ہوں اپنے ہونٹوں پر
چلا تھا لے کے یہ سرمایہ کربلا کے لئے

فشار غم نے مجھے چور چور کر ڈالا
کواڑ کھول دے سارے ذرا ہوا کے لئے

کٹی ہوئی ہے مرے تازہ موسموں کی زباں
کہاں سے لاؤں گا الفاظ اب دعا کے لئے

مری طلب نے مرے ہاتھ توڑ ڈالے ہیں
بہت کڑا ہے یہ لمحہ مری انا کے لئے

کبھی دریچے سمندر کی سمت کھلتے تھے
ترس گیا ہوں مگر اب کھلی فضا کے لئے

مجھے خبر ہے جھکے گی تری نظر نہ کبھی
بنی ہے یہ تو صفت چشم با حیا کے لئے

ہر ایک چیز یہاں کاغذی لباس میں ہے
کوئی جگہ نہیں ملتی گل وفا کے لئے

خیال میں کئی کانٹے اتر گئے افضلؔ
سزا ملی ہے یہ اک حرف نارسا کے لئے

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم