MOJ E SUKHAN

زباں سے کر کے اظہار حقیقت آفریں میں نے

غزل

زباں سے کر کے اظہار حقیقت آفریں میں نے
زمانے بھر کو اپنا کر لیا ہے نکتہ چیں میں نے

جنوں ہے بے خودی ہے بیکلی ہے بے قراری ہے
محبت کی ہے یا پی لی شراب آتشیں میں نے

یہ عالم کون سا عالم ہے دوری یا حضوری ہے
اسی کو رو بہ رو پایا جب آنکھیں بند کیں میں نے

دم نظارہ دیکھے کوئی نظروں کا مری عالم
اسے یوں دیکھتا ہوں جیسے دیکھا ہی نہیں میں نے

ارے او سامنے آ کر نگاہیں پھیرنے والے
تری خاطر زمانے سے نگاہیں پھیر لیں میں نے

گزر کر بے نیازانہ غرور حسن کو آخر
رموز بے نیازی سے کیا زیر نگیں میں نے

خدا محفوظ رکھے دوستوں سے بھی کہ دیکھے ہیں
لباس دوستی میں کتنے مار آستیں میں نے

محبت زندگی ہے بزمؔ لیکن لوگ کہتے ہیں
کہ جام زہر کو سمجھا ہے جام انگبیں میں نے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم